المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى قَطُّ ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ : فَذَكَرْتُ هَذَا لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَاهُ النَّاسُ ، فَيَعْمَلُ بِهِ خَالِيًا ، وَإِنِّي لَأُصَلِّيهَا .
سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ ذَلِكَ .
قُلْتُ : مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ هُوَ الْوَاقِدِيُّ ، وَقَدْ خَالَفَهُ غَيْرُهُ فِي هَذَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھی چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔“ عمر بن حکم کہتے ہیں کہ پھر میں نے اس بات کا ذکر سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ”بے شک رسول اللہ ﷺ (کبھی کبھی نفلی) عمل کو اس ناپسندیدگی کی بنا پر ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ آپ ﷺ کو (وہ عمل کرتے ہوئے) دیکھ نہ لیں (اور اسے اپنے اوپر لازم نہ کر لیں)، چنانچہ آپ ﷺ وہ عمل تنہائی میں ادا فرماتے تھے، اور میں تو یہ (چاشت کی نماز) ضرور پڑھتا ہوں۔“
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ یہی بات فرماتے ہیں۔ میں (مصنف) کہتا ہوں: (سند میں مذکور راوی) محمد بن عمر دراصل واقدی ہے، اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی اس روایت میں دیگر رواۃ نے اس (واقدی) کی مخالفت کی ہے۔