المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا حُسَامُ بْنُ الْمِصَكِّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ فَرَآهُمْ يُصَلُّونَ الضُّحَى ، فَقَالَ : هَذِهِ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ ، قَالَ : فَكَانُوا يُصَلُّونَهَا إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ .
قُلْتُ : وَهَذَا يُبَايِنُ سِيَاقَ مُسْلِمٍ ، فَإِنَّ لَفْظَهُ : أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ الضُّحَى ، فَقَالَ : لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ .سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس مسجدِ قبا میں تشریف لائے تو آپ ﷺ نے انہیں چاشت (ضحیٰ) کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، جس پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ اوابین (اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں) کی نماز ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ وہ لوگ یہ نماز اس وقت ادا کیا کرتے تھے جب (دھوپ کی شدت سے) اونٹ کے بچوں کے پاؤں تپنے لگتے تھے۔
میں کہتا ہوں کہ یہ روایت صحیح مسلم کے سیاق کے خلاف ہے، کیونکہ وہاں الفاظ یہ ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: وہ یقیناً یہ بات جانتے ہیں کہ اس وقت کے علاوہ (تاخیر سے) نماز پڑھنا زیادہ فضیلت والا ہے، بے شک رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب (شدتِ تپش سے) اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔“