المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 657
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ .
قُلْتُ : هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ ، إِلَّا أَنَّهُ مَعْلُولٌ ، وَالْمَحْفُوظُ فِي هَذَا ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، كَذَا أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ ، وَمِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ أَيْضًا ، عَنِ الْقَاسِمِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی طرف کثرت سے رجوع کرنے والوں کی نماز کا وقت وہ ہے جب تپش کی شدت سے اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔“
میں کہتا ہوں کہ یہ سند بظاہر صحیح ہے، مگر یہ روایت معلول ہے، اور اس باب میں محفوظ ترین بات یہی ہے کہ یہ روایت قاسم بن عوف کے واسطے سے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جیسا کہ امام مسلم نے اسے ایوب کی حدیث سے اور قتادہ کی حدیث سے بھی قاسم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔