المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، ثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، ثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ غَابِرٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي جَمَاعَةٍ ، ثُمَّ لَبِثَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ، فَلَهُ أَجْرُ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ تَامَّةٍ حَجَّتُهُ وَعُمْرَتُهُ .ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے صبح کی نماز باجماعت ادا کی، پھر وہ اپنی اسی جگہ (ذکر و اذکار میں) بیٹھا رہا یہاں تک کہ اس نے چاشت (اشراق) کے نوافل ادا کر لیے، تو اس کے لیے ایک مکمل حج اور ایک مکمل عمرے کا ثواب ہے، اس کا یہ حج اور اس کا یہ عمرہ (اجر و ثواب میں) بالکل کامل و مکمل ہو گا۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر (7642) میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے اس کے شواہد کی بنیاد پر اسے حسن قرار دیا ہے۔