❮
❯
حدیث نمبر: 655
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، ثَنَا طَيِّبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فَقَعَدَ مَقْعَدَهُ ، فَلَمْ يَلْغُ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا ، وَيَذْكُرُ اللهَ تَعَالَى حَتَّى يُصَلِّيَ الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، لَا ذَنْبَ لَهُ .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے صبح کی نماز (فجر) ادا کی، پھر وہ اپنی اسی جگہ (جائے نماز) پر بیٹھا رہا اور دنیاوی امور کی کسی لغو و فضول بات میں مشغول نہیں ہوا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر و اذکار میں مصروف رہا یہاں تک کہ اس نے چاشت کی چار رکعتیں ادا کر لیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو کر نکلتا ہے جیسے وہ اس دن (بے گناہ) تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا، اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے [حدیث نمبر: 4402] اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں صراحت کی ہے کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 655
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لذاته. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 16941، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1771، 6073»