المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا عَمُّ ، أَقْبِسْنِي خَيْرًا ، قَالَ : نَعَمِ ابْنَ أَخِي ، قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ : إِذَا صَلَّيْتَ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ لَمْ تُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَإِنْ صَلَّيْتَهَا أَرْبَعًا : كُتِبْتَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ ، وَإِنْ صَلَّيْتَهَا سِتًّا : لَمْ يَتْبَعْكَ ذَنْبٌ ، وَإِنْ صَلَّيْتَهَا عَشْرًا لَمْ ..... وَإِنْ صَلَّيْتَهَا اثْنَتَيْ عَشْرَةَ بُنِيَ لَكَ بِهَا بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ .سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے التجا کی: ”اے چچا! مجھے خیر و بھلائی کی کوئی بات سکھائیے“، انہوں نے جواب دیا: ”ہاں میرے بھتیجے! رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا: ”اے ابوذر! جب تم چاشت کی دو رکعتیں ادا کرو گے تو تمہارا نام غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، اور اگر تم چار رکعتیں پڑھو گے تو تم محسنین (نیکوکاروں) میں لکھے جاؤ گے، اور اگر تم چھ رکعتیں پڑھو گے تو کوئی گناہ تمہارا پیچھا نہیں کرے گا، اور اگر تم دس رکعتیں پڑھو گے تو (متن میں یہاں خلا ہے) اور اگر تم بارہ رکعتیں ادا کرو گے تو ان کے عوض تمہارے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر کر دیا جائے گا“۔“
اسے امام ابو یعلیٰ الموصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔