المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 653
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَتَيْنَاهُ عِنْدَ رَأْسِ الثَّنِيَّةِ قَالَ : عَنْ عُمَرَ الذَّكْوَانِيِّ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ ، أَوْ عَشْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَنَسُ ، أَكْثِرِ الطَّهُورَ يُزَدْ فِي عُمُرِكَ ، وَصَلِّ الضُّحَى ، فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ .....
الْحَدِيثَ وَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى بَقِيَّتُهُ فِي كِتَابِ الْمَوَاعِظِ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ (ہجرت کر کے مدینہ منورہ) تشریف لائے تو اس وقت میری عمر نو یا دس برس تھی، آپ ﷺ نے (مجھ سے مخاطب ہو کر) ارشاد فرمایا: ”اے انس! کثرت کے ساتھ (اور خوب اچھی طرح) طہارت و وضو کا اہتمام کیا کرو، اس سے تمہاری عمر میں برکت و اضافہ کر دیا جائے گا، اور تم چاشت کی نماز (نمازِ ضحیٰ) ادا کیا کرو کیونکہ یہ اللہ کی طرف کثرت سے رجوع کرنے والے بندوں (اوابین) کی نماز ہے“۔
ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا بقیہ حصہ عنقریب "کتاب المواعظ" (نصیحتوں کے بیان) میں آئے گا۔