المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا ، فَأَعْظَمُوا الْغَنِيمَةَ ، وَأَسْرَعُوا الْكَرَّةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ : مَا رَأَيْنَا بَعْثًا أَسْرَعَ مِنْهُ كَرَّةً ، وَلَا أَعْظَمَ غَنِيمَةً مِنْ هَذَا الْبَعْثِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَسْرَعَ كَرَّةً وَأَعْظَمَ غَنِيمَةً مِنْهُ ، رَجُلٌ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ صَلَاةَ الْغَدَاةِ ، ثُمَّ عَقَّبَهُ بِصَلَاةِ الضُّحَى ، فَقَدْ أَسْرَعَ الْكَرَّةَ ، وَأَعْظَمَ الْغَنِيمَةَ .
649 \ 2 - رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي مُسْنَدِهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ .
649 \ 3 - وَابْنُ حِبَّانَ ، عَنْ أَبِي يَعْلَى .
وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ - أَيْ أَبُو هُرَيْرَةَ - : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللهِ .....سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک فوجی مہم روانہ فرمائی، اس لشکر نے کثیر مالِ غنیمت حاصل کیا اور بڑی تیزی سے واپسی کی، جس پر ایک شخص نے (حیرت سے) عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے اس لشکر سے زیادہ تیز رفتار اور اس سے زیادہ مالِ غنیمت لانے والا کوئی لشکر نہیں دیکھا“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ تیز رفتار واپسی کرنے والے اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر عظیم غنیمت پانے والے کے متعلق نہ بتاؤں؟ وہ شخص ہے جو اپنے گھر میں نہایت عمدگی سے وضو کرتا ہے، پھر مسجد کا رخ کرتا ہے اور وہاں صبح کی نماز (فجر) ادا کرتا ہے، پھر اس کے بعد وہ چاشت کی نماز بھی پڑھتا ہے، تو درحقیقت اسی شخص نے نہایت تیز رفتاری سے واپسی کی اور سب سے عظیم نفع و غنیمت حاصل کر لیا“۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں ابوبکر سے، اور ابن حبان نے ابو یعلیٰ کے واسطے سے روایت کیا ہے، نیز اسے امام بزار نے بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تخریج کیا ہے جس میں یہ مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ!“۔