المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 648
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ قَاعِدَةً ، فَقِيلَ لَهَا : إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُصَلِّيهَا أَرْبَعًا ! ، فَقَالَتْ : إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا امْرَأَةٌ شَابَّةٌ ، وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ .ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نمازِ چاشت کی آٹھ رکعات بیٹھ کر ادا کیا کرتی تھیں، چنانچہ ان سے دریافت کیا گیا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تو یہ نماز چار رکعات پڑھتی ہیں! تو انہوں نے فرمایا: ”بے شک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک نوجوان خاتون ہیں، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے اجر کے مقابلے میں آدھا ہے۔““
تخریج و تحکیم: اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم یعنی غیر معروف ہے، البتہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کے اجر کی کمی سے متعلق اصل ارشادِ نبوی صحیح بخاری (1115) وغیرہ میں موجود ہے۔