❮
❯
حدیث نمبر: 650
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ رُمَيْثَةَ قَالَتْ : رَأَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا صَلَّتِ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ، فَقُلْتُ لَهَا : شَيْءٌ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ ، أَوْ شَيْءٌ أَمَرَكِ بِهِ ؟ ! قَالَتْ : مَا أَنَا بِمُحَدِّثَتِكِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِنَّ شَيْئًا ، وَلَكِنْ لَوْ نُشِرَ لِي أَبِي مِنَ الْقَبْرِ عَلَى أَنْ أَدَعَهُنَّ لَمْ أَدَعْهُنَّ .
ترجمہ

سیدہ رُمیشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے چاشت (ضحیٰ) کی آٹھ رکعات نماز ادا کیں، تو میں نے ان سے دریافت کیا: ”کیا یہ کوئی ایسا عمل ہے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے، یا انہوں نے آپ کو اس کا حکم دیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں ان رکعات کے متعلق تمہیں اللہ کے رسول ﷺ سے (منسوب) کوئی بات تو نہیں بتا رہی، البتہ (یہ عمل مجھے اس قدر عزیز ہے کہ) اگر میرے والد کو بھی میرے لیے قبر سے اٹھا کر زندہ کر دیا جائے (اور وہ کہیں) کہ میں ان رکعات کو چھوڑ دوں، تب بھی میں انہیں ہرگز نہیں چھوڑوں گی۔“
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 650
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1128، 1177، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 718، ومالك فى «الموطأ» برقم: 519 ، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1230، 2104، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 312، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 482، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1293، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1496، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 4989، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24659، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 650، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 4867، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 7863، 7864»