المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَرَّةِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، فَاتَّبَعْتُ أَثَرَهُ ، حَتَّى ظَهَرَ عَلَيْهَا ، فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ طَوَّلَ فِيهِنَّ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا حُذَيْفَةُ : طَوَّلْتُ عَلَيْكَ ؟ قُلْتُ : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي سَأَلْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا ثَلَاثًا ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً : سَأَلْتُهُ أَلَّا يُظْهِرَ عَلَى أُمَّتِي غَيْرَهَا ، فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَلَّا يُهْلِكَهَا بِالسِّنِينَ ، فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَلَّا يَجْعَلَ بَأْسَهَا بَيْنَهَا ، فَمَنَعَنِيهَا .سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بنو معاویہ کے سنگلاخ علاقے (حرہ) کی طرف تشریف لے گئے، تو میں بھی آپ ﷺ کے نقشِ قدم کی پیروی کرتے ہوئے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ آپ ﷺ وہاں ایک بلند مقام پر پہنچ گئے، پھر آپ ﷺ نے چاشت کی آٹھ رکعتیں ادا فرمائیں جن میں نہایت طویل قیام فرمایا، پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے حذیفہ! کیا میں نے تم پر (نماز) لمبی کر دی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میں نے اس نماز کے دوران اللہ عزوجل سے تین دعائیں کی تھیں، جن میں سے اس نے میری دو دعائیں قبول فرما لیں اور ایک سے مجھے روک دیا؛ میں نے اللہ سے التجا کی «أَلَّا يُظْهِرَ عَلَى أُمَّتِي غَيْرَهَا» ”کہ وہ میری امت پر ان کے علاوہ کسی غیر (دشمن) کو غالب نہ کرے“ تو اس نے میری یہ مراد پوری کر دی، اور میں نے اس سے التجا کی «أَلَّا يُهْلِكَهَا بِالسِّنِينَ» ”کہ وہ میری امت کو قحط سالی اور عمومی ہلاکت سے دوچار نہ کرے“ تو اس نے مجھے یہ بھی عطا فرما دی، اور میں نے اس سے سوال کیا «أَلَّا يَجْعَلَ بَأْسَهَا بَيْنَهَا» ”کہ وہ ان کے درمیان باہمی لڑائی اور خانہ جنگی پیدا نہ کرے“ تو اس نے مجھے اس سے روک دیا۔“
اس حدیث کو امام بزار نے اپنی مسند (2931) میں روایت کیا ہے، اور محمد بن اسحاق کی متابعت اور دیگر شواہد کی بنا پر اس کی سند حسن درجے کی ہے۔