المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنَا أَبُو قُرَّةَ الْأَسَدِيُّ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَا مِنِ امْرِئٍ يَأْتِي فَضَاءً مِنَ الْأَرْضِ ، فَيُصَلِّي بِهِ الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ ، أَصْبَحْتُ عَبْدَكَ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ ، أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَلَمْ أَكُ شَيْئًا ، أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي ، فَإِنَّهُ قَدْ أَرْهَقَتْنِي ذُنُوبِي ، وَأَحَاطَتْ بِي ، إِلَّا أَنْ تَغْفِرَهَا لِي ، فَاغْفِرْهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ ، إِلَّا غَفَرَ اللهُ لَهُ فِي ذَلِكَ الْمَقْعَدِ ذَنْبَهُ ، وَإِنْ كَانَ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جو شخص زمین کے کسی کھلے اور وسیع میدان میں آئے اور وہاں چاشت کی دو رکعت نماز ادا کرے، پھر یہ دعا پڑھے: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَصْبَحْتُ عَبْدَكَ عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ، أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَلَمْ أَكُ شَيْئًا، أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي، فَإِنَّهُ قَدْ أَرْهَقَتْنِي ذُنُوبِي، وَأَحَاطَتْ بِي، إِلَّا أَنْ تَغْفِرَهَا لِي، فَاغْفِرْهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ» ”اے اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد و وعدے پر (قائم) ہوں، تو نے ہی مجھے پیدا کیا جب کہ میں کوئی قابلِ ذکر شے نہ تھا، میں اپنے گناہ کی تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں کیونکہ میرے گناہوں نے مجھے بوجھ تلے دبا دیا ہے اور مجھے اپنے نرغے میں لے لیا ہے، سوائے اس کے کہ تو انہیں بخش دے، پس اے ارحم الراحمین! تو میرے گناہ معاف فرما دے“، تو اللہ تعالیٰ اسی نشست میں اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“
یہ روایت مسند اسحاق بن راہویہ (644) میں موجود ہے، اس کی سند میں ابو قرہ الاسدی نامی راوی ہیں جن کی توثیق میں محدثین کے ہاں کلام پایا جاتا ہے، تاہم دعا کے کلمات دیگر صحیح احادیث (جیسے سید الاستغفار) سے ثابت ہیں۔