المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 645
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ مَأْمُومٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ : مَنْ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ حَرَّمَهُ اللهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَطْعَمَهُ ، أَوْ تَلْفَحَهُ .ترجمہ
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے فجر کی نماز ادا کی، پھر وہ (ذکر الٰہی میں) بیٹھا رہا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو گیا، پھر اس نے دو رکعتیں (نفل) ادا کیں، تو اللہ تعالیٰ آگ پر یہ بات حرام فرما دے گا کہ وہ اسے کھائے یا اسے اپنی تپش سے جھلسائے۔“
اس روایت کی سند میں سعد بن طریف راوی متروک اور ضعیف ہے، نیز عمیر بن ماموم کے احوال بھی نامعلوم ہیں، لہٰذا یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔