المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 643
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ ، ثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَتْنَا شَعْثَاءُ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : مَا صَلَّيْتَ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ! قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى رَكْعَتَيْنِ حِينَ بُشِّرَ بِالْفَتْحِ وَبِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ .
قُلْتُ : بَعْضُهُ فِي سُنَنِ ابْنِ مَاجَهْ .ترجمہ
سیدہ شعثاء رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے دو رکعتیں ادا کیں، تو ان کی اہلیہ نے ان سے (تعجب سے) کہا: ”آپ نے صرف دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے چاشت کی دو رکعتیں اس وقت ادا فرمائی تھیں جب آپ ﷺ کو فتح اور ابوجہل کا سر (لائے جانے) کی خوشخبری سنائی گئی تھی۔“
میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کا کچھ حصہ سنن ابن ماجہ میں بھی روایت کیا گیا ہے۔