المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الضُّحَى باب: چاشت کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 642
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ قَالَ : إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَدَّثَنَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى ، وَقَالَ : مَنْ صَلَّاهَا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَغُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي سَاعَاتِ النَّهَارِ مِنْ ذَنْبٍ .ترجمہ
سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ چاشت کی نماز (نمازِ ضحیٰ) ادا فرمایا کرتے تھے، اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے یہ نماز ادا کی، اس کے لیے جنت میں ایک محل تعمیر کر دیا جائے گا، اور دن کے اوقات میں اس سے جو بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے انہیں معاف کر دیا جائے گا۔“
اس حدیث کی سند میں عبد الکریم بن ابی المخارق البصری ضعیف راوی ہے، تاہم چاشت کی نماز کی فضیلت اور اس پر جنت میں گھر کی تعمیر کے حوالے سے دیگر صحیح و حسن احادیث (مثلاً سنن ترمذی: 473) موجود ہیں جو اس کے معنی کی تائید کرتی ہیں۔