المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ الْوِتْرِ باب: نمازِ وتر کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : إِنَّ النَّضْرَ بْنَ شُمَيْلٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ : قُلْتُ لِمِقْسَمٍ : إِنِّي أُوتِرُ بِثَلَاثٍ ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ ، قَالَ : لَا وَتْرَ إِلَّا بِسَبْعٍ أَوْ خَمْسٍ ، فَلَقِيتُ مُجَاهِدًا وَيَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ فَذَكَرْتُ لَهُمَا ، فَقَالَا : سَلْهُ : عَنْ مَنْ ؟ فَقَالَ : عَنِ الثِّقَةِ ، عَنِ الثِّقَةِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَمَيْمُونَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
638 \ 2 - قَالَ : وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .امام حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے مقسم رحمہ اللہ سے عرض کیا: ”میں تین رکعات وتر ادا کرتا ہوں اور پھر (فجر کی) نماز کے لیے نکل جاتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”وتر کی صرف سات یا پانچ رکعتیں ہی (مسنون) ہیں۔“ حکم کہتے ہیں کہ پھر میری ملاقات امام مجاہد اور یحییٰ بن جزار رحمہما اللہ سے ہوئی اور میں نے ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو ان دونوں نے کہا: ”تم ان سے دریافت کرو کہ انہوں نے یہ بات کس سے سنی ہے؟“ مقسم نے جواب دیا: ”ایک ثقہ راوی نے دوسرے ثقہ راوی سے، انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما سے، اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے۔“
اسی طرح محمد بن جعفر نے شعبہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی ہے۔