المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ الْوِتْرِ باب: نمازِ وتر کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ : قُلْتُ لِمِقْسَمٍ : أُوتِرُ بِثَلَاثٍ ثُمَّ يُؤَذَّنُ ثُمَّ أَخْرُجُ ، فَقَالَ : لَا يَصْلُحُ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ ، قَالَ الْحَكَمُ : فَأَخْبَرْتُ بِهِ مُجَاهِدًا وَيَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ فَقَالَا لِي : سَلْهُ عَمَّنْ هَذَا ؟ فَقَالَ : عَنِ الثِّقَةِ عَائِشَةَ وَمَيْمُونَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - .
637 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ بِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مُرَاجَعَتَهُ لِمُجَاهِدٍ وَيَحْيَى .امام حکم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت مقسم رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ ”میں تین رکعت وتر ادا کرتا ہوں، پھر اذان دی جاتی ہے اور میں (نماز کے لیے) نکل جاتا ہوں“، تو انہوں نے فرمایا کہ ”یہ (عمل) پانچ یا سات رکعت (وتر) کے بغیر درست نہیں ہے“۔ امام حکم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس بات کی خبر امام مجاہد اور یحییٰ بن جزار رحمہما اللہ کو دی، تو ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ ”ان سے دریافت کرو کہ یہ بات کس کے حوالے سے ہے؟“ چنانچہ انہوں نے جواب دیا کہ ”یہ روایت نہایت ثقہ و معتبر ہستیوں سیدہ عائشہ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے“۔
اور امام ابوبکر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمیں غندر نے شعبہ کے واسطے سے یہی روایت بیان کی ہے، تاہم اس میں امام مجاہد اور یحییٰ سے رجوع کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا۔