❮
❯
حدیث نمبر: 639
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : نَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ قَالَ : كَانَ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا صَلَّى بِنَا الْغَدَاةَ يُقْرِئُنَا ، فَأَتَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي عَنِ الْوِتْرِ ، فَقَالَ : ثَلَاثٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَاحِدَةٍ ، وَخَمْسٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ثَلَاثٍ ، وَسَبْعٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ خَمْسٍ .
ترجمہ

ابو تمیمہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ جب ہمیں صبح کی نماز پڑھا چکتے تو ہمیں قرآنِ کریم پڑھایا کرتے تھے، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میرے پہلو میں بیٹھے ایک شخص نے ان سے وتر کی رکعات کے متعلق سوال کیا، جس پر آپ نے ارشاد فرمایا: ”تین رکعات وتر مجھے ایک کے مقابلے میں زیادہ پسند ہیں، پانچ رکعات مجھے تین سے زیادہ محبوب ہیں اور سات رکعات مجھے پانچ کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہیں۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 639
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»