المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ الْوِتْرِ باب: نمازِ وتر کا بیان۔
حدیث نمبر: 631
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أَصْبَحْتُ وَلَمْ أُوتِرْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْوِتْرُ بِاللَّيْلِ قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ : اذْهَبْ فَأَوْتِرْ .ترجمہ
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں نے صبح کر لی ہے اور میں وتر کی نماز ادا نہیں کر سکا“، اس پر آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا: ”وتر تو رات ہی کے وقت (پڑھے جانے) کا عمل ہے“، پھر تیسری مرتبہ (یہی بات ارشاد فرمانے کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اب وتر پڑھ لو۔“
[مسند اسحاق بن راہویہ: 631، مصنف ابن ابی شیبہ: 6940]