المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ الْوِتْرِ باب: نمازِ وتر کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَكَّةَ ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي جَالِسًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَا صَلَّى رَجُلٌ الْعَتَمَةَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا مَا بَدَا لَهُ ، ثُمَّ أَوْتَرَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ ، إِلَّا كَانَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ كَأَنَّهُ لَقِيَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ .ابراہيم بن عبيد بن رفاعہ بیان کرتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ بیٹھ کر نماز ادا فرما رہے تھے، پھر انہوں نے پوری حدیث کا ذکر کیا اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی، پھر اس کے بعد حسبِ توفیق جتنی اللہ نے چاہی نماز پڑھی اور سونے سے قبل وتر بھی ادا کر لیے، تو اس کے لیے وہ رات ایسی ہو جائے گی گویا اس نے شبِ قدر پالی ہو۔“
اس روایت کی سند میں خالد بن الیاس نامی راوی ہے جو کہ محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور متروک الحدیث ہے، جس کی بنا پر یہ روایت انتہائی کمزور ہے۔