المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ الْوِتْرِ باب: نمازِ وتر کا بیان۔
حدیث نمبر: 632
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ الْأَكْيَاسَ الَّذِينَ يُوتِرُونَ أَوَّلَ اللَّيْلِ ، وَالْأَقْوِيَاءَ الَّذِينَ يُوتِرُونَ آخِرَ اللَّيْلِ .ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک عقلمند اور دور اندیش وہ لوگ ہیں جو رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے ہیں، اور وہ لوگ مضبوط اور توانا ہیں جو رات کے آخری پہر میں وتر ادا کرتے ہیں۔“
[اثر صحیح، اسے امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابراہیم نخعی کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہ ہونے کی وجہ سے یہ منقطع ہے، تاہم اس کا مفہوم دیگر مستند و صحیح روایات کے عین مطابق ہے]۔