المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ رَوَاتِبِ الصَّلَاةِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا باب: سننِ رواتب اور ان کی پابندی کا بیان۔
حدیث نمبر: 628
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَذْرَمِيُّ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ .ترجمہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں نماز پڑھ رہے تھے، پس آپ ﷺ مسلسل نماز ادا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے عشاء کی نماز ادا فرمائی۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور یہ مغرب و عشاء کے درمیان نفل نماز کی فضیلت اور نبی کریم ﷺ کے ذوقِ عبادت کے باب میں ایک اہم دلیل ہے۔