المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ رَوَاتِبِ الصَّلَاةِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا باب: سننِ رواتب اور ان کی پابندی کا بیان۔
حدیث نمبر: 627
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : كَانَ يُقَالُ : الْوِتْرُ عَلَى أَهْلِ الْقُرْآنِ ، فَقُلْتُ : مَا تَأْمُرُ بِهِ ابْنَتَكَ ؟ قَالَ : آمُرُهَا بِرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ ، وَكَانَتِ ابْنَةَ خَمْسٍ أَوْ سِتِّ سِنِينَ .ترجمہ
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: یہ بات کہی جاتی تھی کہ ”نمازِ وتر اہل قرآن (یعنی قرآن کے حاملین اور قاریوں) پر لازم ہے،“ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے پوچھا: آپ اپنی صاحبزادی کو اس متعلق کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں اسے عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیتا ہوں،“ جبکہ اس وقت وہ محض پانچ یا چھ برس کی تھیں۔
[مطالب العالیہ: 638، اس قول کے راوی ثقہ ہیں اور یہ سند صحیح ہے]۔