المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ رَوَاتِبِ الصَّلَاةِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا باب: سننِ رواتب اور ان کی پابندی کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصِّيصِيُّ ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ وَقَدْ غَزَا مَعَنَا الرُّومَ ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا عَابِدًا ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْمَغْرِبِ ، قَرَأَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا مِنَ الصِّدِّيقِينَ ، فَيَجُوزُهُمْ ، فَيُقَالُ : هَذَا مِنَ الشُّهَدَاءِ ، فَيَجُوزُهُمْ ، فَيُقَالُ : هَذَا مِنَ النَّبِيِّينَ ، فَيَجُوزُهُمْ ، فَيُقَالُ : هَذَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فَيَجُوزُهُمْ ، وَلَا يُحْجَبُ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى عَرْشِ الرَّحْمَنِ .
قُلْتُ : هَذَا مَتْنٌ مَوْضُوعٌ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے مغرب کی دو رکعتوں کے بعد مزید دو رکعتیں ادا کیں اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور پندرہ مرتبہ ﴿قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] ”آپ کہہ دیجیے کہ وہ اللہ ایک ہے“ کی تلاوت کی، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے متعلق کہا جائے گا کہ یہ صدیقین میں سے ہے، چنانچہ وہ ان کے مرتبے سے بھی آگے گزر جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ شہداء میں سے ہے، تو وہ ان سے بھی آگے نکل جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ انبیاء میں سے ہے، تو وہ ان سے بھی آگے بڑھ جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فرشتوں میں سے ہے، تو وہ ان سے بھی تجاوز کر جائے گا، اور اس کے لیے (قربِ الٰہی کی راہ میں) کوئی حجاب اور رکاوٹ نہیں رہے گی یہاں تک کہ وہ رحمن کے عرش تک پہنچ جائے۔“
میں کہتا ہوں: یہ متن موضوع (من گھڑت) ہے۔