المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَلُّفِ وَالْمَشَقَّةِ فِي الْعِبَادَةِ باب: عبادت میں تکلف برتنے اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 608
قَالَ مُسَدَّدٌ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ فَلْيَنَمْ .
قُلْتُ : إِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ وَأَصْلُهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ .ترجمہ
سیدنا حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کے وقت (نمازِ تہجد کے لیے) کھڑا ہو اور (نیند کے غلبے کی وجہ سے) اس پر قرآن کے الفاظ بوجھل ہونے لگیں (یعنی اس کی زبان لڑکھڑانے لگے اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے) تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے۔“
میں کہتا ہوں: اس روایت کی سند منقطع ہے، البتہ اس کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود ہے۔