❮
❯
حدیث نمبر: 607
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَرَأَيْنَهَا سَيِّئَةَ الْهَيْئَةِ ، فَقُلْنَ لَهَا : مَا فِي قُرَيْشٍ رَجُلٌ أَغْنَى مِنْ بَعْلِكِ ! قَالَتْ : مَا لَنَا مِنْهُ مِنْ شَيْءٍ ، أَمَّا نَهَارُهُ فَصَائِمٌ ، وَأَمَّا لَيْلُهُ فَقَائِمٌ ، قَالَ : فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا عُثْمَانُ : أَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ ؟ قَالَ : وَمَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا أَنْتَ فَتَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ، وَإِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، فَصَلِّ وَنَمْ ، وَأَفْطِرْ وَصُمْ ، قَالَ : فَأَتَتْهُمُ الْمَرْأَةُ بَعْدَ ذَلِكَ عَطِرَةً كَأَنَّهَا عَرُوسٌ ، فَقُلْنَ لَهَا : مَهْ ! ؟ قَالَتْ : أَصَابَنَا مَا أَصَابَ النَّاسَ .
ترجمہ

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے پاس آئیں، تو انہوں نے انہیں نہایت خستہ حال اور بکھری ہوئی وضع قطع میں دیکھا، جس پر انہوں نے ان سے پوچھا: ”قریش میں تمہارے شوہر سے زیادہ خوشحال اور مالدار کوئی شخص نہیں ہے (پھر تمہاری یہ حالت کیوں ہے)؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہمیں ان سے (بطورِ شوہر) کچھ حاصل نہیں ہوتا، ان کا حال تو یہ ہے کہ دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور ساری رات نماز میں کھڑے رہتے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو ازواجِ مطہرات نے آپ ﷺ سے اس معاملے کا تذکرہ کیا، چنانچہ نبی کریم ﷺ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عثمان! کیا تمہارے لیے میری زندگی میں اسوہ اور بہترین نمونہ نہیں ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، (مجھ سے کیا خطا ہوئی)؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم دن بھر روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قیام کرتے ہو، حالانکہ تمہاری اہلیہ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے اپنے جسم کا بھی تم پر حق ہے، لہٰذا (رات کو) نماز بھی پڑھا کرو اور نیند بھی لیا کرو، اور کبھی روزہ رکھا کرو اور کبھی ناغہ بھی کیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس ہدایت کے بعد وہ خاتون دوبارہ ازواجِ مطہرات کے پاس آئیں تو وہ کسی دلہن کی طرح خوشبو میں بسی ہوئی اور بنی سنوری تھیں، انہوں نے (حیرت سے) پوچھا: ”واہ! یہ کیا ماجرا ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”ہمیں بھی وہی ازدواجی راحت و سکون حاصل ہو گیا ہے جو (عام) لوگوں کو میسر ہوتا ہے۔“
مسند ابویعلیٰ: 607، اس کی سند حسن ہے اور اس واقعے کی اصل صحیح بخاری (5063) میں بھی موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 607
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7612، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 316، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3210/1»