❮
❯
حدیث نمبر: 606
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يُونُسَ أَبُو يُونُسَ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا فِي الْمَسْجِدِ يُطِيلُ الصَّلَاةَ ، فَأَتَاهُ ، ثُمَّ أَخَذَ بِمَنْكِبِهِ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى رَضِيَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ بِالتَّيْسِيرِ ، وَكَرِهَ لَهَا التَّعْسِيرَ ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَإِنَّ هَذَا أَخَذَ بِالتَّعْسِيرِ وَتَرَكَ التَّيْسِيرَ ، ثُمَّ نَشَلَهُ نَشْلًا ، فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ .
ترجمہ

سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ مسجد میں ایک شخص (نفلی) نماز کو بہت طویل کر رہا ہے، تو آپ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے، پھر آپ ﷺ نے اسے کندھے سے پکڑ کر ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے آسانی و سہولت کو پسند فرمایا ہے اور اس کے لیے تنگی و دشواری کو ناپسند کیا ہے۔“ آپ ﷺ نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشاد فرمائے (اور مزید فرمایا): ”اور یقیناً اس شخص نے سختی و دشواری کو اختیار کر لیا ہے اور آسانی کو ترک کر دیا ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے اسے (تنبیہ کے طور پر) اپنی طرف زور سے کھینچا، جس کے بعد وہ شخص (اس طرح نماز کو حد سے زیادہ لمبا کرتے ہوئے) دوبارہ نہ دیکھا گیا۔
تخریج و تحکیم: اس حدیث کی سند جید ہے، اسے امام احمد نے 'المسند' (19003) اور امام بیہقی نے 'السنن الکبریٰ' (3826) میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 606
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده من طريق الحارث ضعيف لجهالة شيخ الحارث، وهو منقطع بين عبد الله بن شقيق والصحابي. »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 606، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 707»