المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَلُّفِ وَالْمَشَقَّةِ فِي الْعِبَادَةِ باب: عبادت میں تکلف برتنے اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنے کی ممانعت کا بیان۔
وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا وُهَيْبٌ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ يُقَالُ لَهُ جَبَلَةُ ، أَنَّ شَابًّا تَعَبَّدَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْطَلَقَ أَبُوهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ ابْنِي قَدْ أَجْهَدَ نَفْسَهُ فِي الْعِبَادَةِ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مُرْهُ فَلْيَرْبَعْ عَلَى نَفْسِهِ .اہلِ کوفہ کے ایک شخص، جنہیں جبلہ کہا جاتا ہے، سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک نوجوان نے خود کو (کثرتِ ریاضت کے لیے) بالکل وقف کر دیا، پس اس کے والد نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”(اے اللہ کے رسول ﷺ!) میرے بیٹے نے عبادت کی کثرت میں اپنی جان کو سخت مشقت و تھکن میں ڈال دیا ہے“، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے تاکید کرو کہ وہ اپنی جان پر نرمی برتے (اور میانہ روی اختیار کرے)۔“
یہ روایت سنن الدارمی میں مذکور ہے اور اس کا متن دین میں غلو اور حد سے زیادہ سختی برتنے کے بجائے اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے تاکہ انسان اکتاہٹ کا شکار ہو کر عبادت سے محروم نہ ہو جائے۔