المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنِ التَّكَلُّفِ وَالْمَشَقَّةِ فِي الْعِبَادَةِ باب: عبادت میں تکلف برتنے اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 604
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا دَامَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ قَلَّ .ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ کے نزدیک اعمال میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب وہ عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے اور اسے مستقل مزاجی سے انجام دے، چاہے وہ مقدار میں تھوڑا ہی کیوں نہ ہو“۔
مسند الحارث (بغية الباحث): 604؛ اس حدیث کی اصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی موجود ہے۔