❮
❯
حدیث نمبر: 595
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، ثُمَّ خَفَضَهُ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : عَجِبْتُ لِمَلَكَيْنِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ نَزَلَا إِلَى الْأَرْضِ يَلْتَمِسَانِ عَبْدًا فِي مُصَلَّاهُ فَلَمْ يَجِدَاهُ ، ثُمَّ عَرَجَا إِلَى رَبِّهِمَا فَقَالَا : يَا رَبَّنَا ، كُنَّا نَكْتُبُ لِعَبْدِكَ الْمُؤْمِنِ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ مِنَ الْعَمَلِ كَذَا وَكَذَا ، فَوَجَدْنَاهُ قَدْ حَبَسْتَهُ فِي حِبَالَتِكَ فَلَمْ نَكْتُبْ لَهُ شَيْئًا ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اكْتُبُوا لِعَبْدِي عَمَلَهُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ ، وَلَا تُنْقِصُوهُ مِنْهُ شَيْئًا ، عَلَيَّ أَجْرُهُ ، احْتَبَسْتُهُ ، فَلَهُ أَجْرُ مَا كَانَ يَعْمَلُ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی نگاہِ مبارک آسمان کی طرف اٹھائی، پھر اسے جھکا لیا، تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے فرشتوں میں سے ان دو فرشتوں پر حیرت ہوئی جو زمین پر اس غرض سے اترے کہ ایک (نیک) بندے کو اس کے مصلّے (نماز کی جگہ) پر تلاش کریں لیکن انہوں نے اسے وہاں نہ پایا، پھر وہ دونوں اپنے رب کی طرف بلندی پر گئے اور عرض گزار ہوئے: اے ہمارے پروردگار! ہم تیرے اس مومن بندے کے لیے اس کے شب و روز میں فلاں فلاں نیک اعمال لکھا کرتے تھے، مگر (اس بار) ہم نے اسے دیکھا کہ تو نے اسے اپنی گرفت (بیماری و آزمائش) میں مقید کر رکھا ہے، چنانچہ ہم نے اس کے نامہ اعمال میں کچھ نہیں لکھا، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: تم میرے بندے کے لیے اس کے دن اور رات کے وہ تمام اعمال لکھو جو وہ پہلے کیا کرتا تھا اور ان میں ذرہ برابر بھی کمی نہ کرو، اس کا اجر دینا میرے ذمے ہے کیونکہ میں ہی نے اسے (بیماری کے ذریعے) روک رکھا ہے، لہٰذا اسے ان تمام اعمال کا ثواب ملے گا جو وہ (صحت مندی کی حالت میں) تسلسل سے کیا کرتا تھا۔“
مسند احمد: 3821، مسند ابویعلیٰ: 5122، مجمع الزوائد: 2/303، علامہ البانیؒ نے اسے 'سلسلہ احادیث صحیحہ' (2092) میں صحیح قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 595
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2338، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3201، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1716، 3842/2»