المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
حدیث نمبر: 594
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، ثَنَا مُؤَمَّلٌ ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : وَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ أَثَرَ الْوَجَعِ لَيَبِينُ عَلَيْكَ ! ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي عَلَى مَا تَرَوْنَ قَدْ قَرَأْتُ الْبَارِحَةَ السَّبْعَ الطُّوَلَ .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (جسم مبارک میں) کچھ تکلیف اور بیماری محسوس فرمائی، چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ پر اس درد کے اثرات بالکل واضح نظر آ رہے ہیں!“، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس (تکلیف دہ) کیفیت میں تم مجھے دیکھ رہے ہو اس کے باوجود میں نے گزشتہ رات قرآنِ کریم کی سات طویل سورتیں تلاوت کی ہیں“۔
امام ابویعلیٰ نے اس روایت کو نقل کیا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی کمالِ استقامت اور بیماری کی حالت میں بھی کثرتِ عبادت پر دلالت کرتی ہے۔