المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ الْخَرَّازُ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ أَوْ سَاقُهُ ، فَقِيلَ لَهُ : أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ ، وَمَا تَأَخَّرَ ؟ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا .
593 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُمَوِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، نَا مِسْعَرٌ بِهِ .
قُلْتُ : هُوَ مَعْلُولٌ ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (نمازِ تہجد میں) اتنی طویل دیر تک قیام فرماتے رہے کہ آپ ﷺ کے دونوں قدم مبارک یا پنڈلیاں ورم آلود ہو گئیں، چنانچہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کی خاطر آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ ﴿مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ [سورة الفتح: 2] معاف نہیں فرما دیے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں (اپنے رب کا) نہایت شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“۔
اور امام بزار رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمیں حسن بن محمد اموی نے محمد بن بشر کے واسطے سے مسعر کے اسی طریق سے روایت بیان کی ہے۔ میں (مؤلف) کہتا ہوں: یہ روایت (اس سند کے ساتھ) معلول یعنی فنی اعتبار سے علت والی ہے، اور اس باب میں معروف و مشہور روایت زیاد بن علاقہ کے واسطے سے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔