المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
حدیث نمبر: 592
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقِرَاءَةِ قَبْلَ الْعَتَمَةِ وَبَعْدَهَا : يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ فِي الصَّلَاةِ .
592 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، بِهَذَا .
592 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، ثَنَا خَالِدٌ بِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ ، وَالْقَوْمُ يُصَلُّونَ .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ”اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص عشاء کی نماز کے وقت سے پہلے یا اس کے بعد بلند آواز سے قرآت کرے، کیونکہ اس طرح وہ نماز میں مشغول اپنے ساتھیوں کو مغالطے میں ڈال دیتا ہے۔“
اور امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے مالک بن اسماعیل کی سند سے خالد بن عبداللہ کے واسطے سے اسی طرح روایت بیان کی ہے۔
نیز امام ابو یعلیٰ نے وہب بن بقیہ کی سند سے خالد کے واسطے سے یہی حدیث نقل کی ہے، البتہ انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ”وہ اپنے ساتھیوں کو مغالطے میں ڈالتا ہے، جبکہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔“