المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
حدیث نمبر: 589
وَحَدَّثَنَا صَالِحٌ : أَبُو مَعْمَرٍ ، ثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي خُبْزَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ مَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ ، وَأَنْ نَجْعَلَ ذَلِكَ وِتْرًا .ترجمہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ حکم ارشاد فرمایا: ”ہم رات کے وقت (تہجد و قیام اللیل) نماز ادا کیا کریں، خواہ وہ (رکعات کی تعداد میں) کم ہو یا زیادہ، اور یہ کہ ہم اپنی اس (نماز) کو وتر (یعنی طاق) بنایا کریں۔“
اس روایت کی سند میں سلام بن ابی خبزہ نامی راوی موجود ہے جسے ائمہ جرح و تعدیل نے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم رات کی نماز کی ترغیب اور اسے وتر پر ختم کرنے کے حوالے سے دیگر صحیح احادیث بھی مروی ہیں۔