المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ ، وَفِي نَفْسِهِ أَنْ يُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَصْنَعْ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ عِنْدَهُ ، فَإِذَا انْتَبَهَ فَلْيَقْبِضْ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً ، ثُمَّ لِيَحْصِبْ عَنْ شِمَالِهِ .ترجمہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی شخص (رات کو) سونے لگے اور اس کے دل میں یہ ارادہ ہو کہ وہ رات کے کسی پہر اٹھ کر (تہجد کی) نماز ادا کرے گا، تو اسے چاہیے کہ اپنے پاس مٹی کا ایک ڈھیر یا مٹھی بھر مٹی رکھ لے، پھر جب وہ بیدار ہو تو اسے چاہیے کہ اپنے دائیں ہاتھ سے ایک مٹھی بھرے اور پھر اسے اپنی بائیں جانب پھینک دے۔“
اس حدیث کی سند میں ایوب بن عتبہ الیمامی نامی راوی موجود ہے جو کہ ضعیف ہے، اسی لیے محدثین نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔