المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : ذَكَرْتُ الْقِيَامَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : نِصْفُهُ رُبُعُهُ فُوَاقَ حَلْبِ نَاقَةٍ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے قیامِ لیل (رات کی نفلی عبادت) کا تذکرہ کیا، تو حاضرین میں سے بعض نے بتایا کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”اس (رات) کا نصف حصہ، اس کا چوتھائی حصہ، یا (کم از کم) اونٹنی کے دو مرتبہ تھن دبانے کے درمیانی مختصر وقفے کے برابر (ہی سہی، مگر قیام ضرور کرنا چاہیے)۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں، تاہم مخرمہ بن بکیر کا اپنے والد سے سماع ثابت نہ ہونے کی بنا پر محدثین کے نزدیک یہ روایت منقطع کے حکم میں ہے، البتہ قیامِ لیل کی ترغیب سے متعلق دیگر شواہد اسے تقویت دیتے ہیں۔