المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْفِهْرِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَتَمَةِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، ائْذَنْ لِي أَتَعَبَّدْ بِعِبَادَتِكَ .. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ : فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ، وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ قَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ ، لَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا سَأَلَ ، وَلَا خَوْفٍ إِلَّا اسْتَعَاذَ ، وَلَا مَثَلٍ إِلَّا فَكَّرَ ، حَتَّى خَتَمَهَا ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ، حَتَّى أَظُنَّ أَنَّهُ يَقُولُ : وَبِحَمْدِهِ . فَمَكَثَ فِي رُكُوعِهِ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَكَبَّرَ ، فَسَجَدَ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى . وَأَظُنُّ أَنَّهُ يَقُولُ : وَبِحَمْدِهِ ، فَمَكَثَ فِي سُجُودِهِ قَرِيبًا مِنْ رُكُوعِهِ : ثُمَّ نَهَضَ ، حَتَّى فَرَغَ مِنْ سَجْدَتَيْهِ ، فَقَرَأَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ آلَ عِمْرَانَ كَذَلِكَ ، ثُمَّ سَمِعْتُ النِّدَاءَ بِالْفَجْرِ .
قَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَمَا تَعَبَّدْتُ عِبَادَةً كَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْهَا .سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں عشاء کی نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ سے ملا تو میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں آپ کی اقتدا میں آپ کے ساتھ مل کر عبادت (نماز) کروں۔“ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی جس میں بیان کیا کہ: ”آپ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر نماز شروع کی اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر آپ ﷺ نے سورہ فاتحہ پڑھی، پھر سورہ بقرہ کا آغاز فرمایا؛ آپ ﷺ رحمت کی کسی ایسی آیت سے نہیں گزرتے تھے مگر اس کے متعلق اللہ سے سوال کرتے، اور نہ ہی کسی خوف و عذاب والی آیت سے گزرتے مگر اللہ کی پناہ طلب کرتے، اور نہ ہی کسی تمثیل سے گزرتے مگر اس میں غور و فکر فرماتے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اس سورت کو مکمل کر لیا۔ پھر آپ ﷺ نے تکبیر کہی، تو میں نے آپ ﷺ کو رکوع کی حالت میں یہ کہتے ہوئے سنا: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ”پاک ہے میرا رب جو نہایت عظمت والا ہے“، یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ آپ ﷺ اس کے ساتھ «وَبِحَمْدِهِ» ”اور میں اس کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں“ بھی کہہ رہے ہیں۔ آپ ﷺ اپنے رکوع میں اپنے قیام کے دورانیے کے قریب قریب ٹھہرے رہے، پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا، تکبیر کہی اور سجدہ کیا، تو میں نے آپ ﷺ کو سجدے کی حالت میں یہ کہتے ہوئے سنا: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ”پاک ہے میرا رب جو سب سے بلند و بالا ہے“، اور میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے «وَبِحَمْدِهِ» ”اور میں اس کی حمد و ثنا بیان کرتا ہوں“ بھی کہا۔ آپ ﷺ اپنے سجدے میں اپنے رکوع کے وقت کے قریب قریب ٹھہرے رہے، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ دونوں سجدوں سے فارغ ہوئے، پھر آپ ﷺ نے سورہ فاتحہ پڑھی اور اس کے بعد اسی (سابقہ) طریقے کے مطابق سورہ آل عمران شروع فرمائی، (اور یہ نماز جاری رہی) یہاں تک کہ میں نے فجر کی اذان سن لی۔“
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے کبھی ایسی کوئی عبادت نہیں کی جو مجھ پر اس (نماز) سے زیادہ گراں اور مشقت طلب رہی ہو“۔