المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مِخْرَاقٍ : قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : إِنَّ عِنْدَنَا أَقْوَامًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ : مَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا فِي لَيْلَةٍ ، فَقَالَتْ : أُولَئِكَ قَوْمٌ قَرَؤُوا ، وَلَمْ يَقْرَؤُوا ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ التِّمَامِ ، فَلَا يَمُرُّ بِآيَةِ رَجَاءٍ إِلَّا سَأَلَ رَبَّهُ وَدَعَا ، وَلَا بِآيَةِ تَخْوِيفٍ إِلَّا دَعَا رَبَّهُ وَاسْتَعَاذَ .
584 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ بِهِ ، قَالَ : يَقُومُ اللَّيْلَ التِّمَامَ بِقِرَاءَةِ الْبَقَرَةِ ، وَآلِ عِمْرَانَ ، وَالنِّسَاءِ وَالْبَاقِي نَحْوَهُ .مسلم بن مخراق رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں عرض کیا: ”ہمارے ہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو ایک ہی رات میں دو دو اور تین تین مرتبہ قرآنِ کریم (مکمل) پڑھ لیتے ہیں،“ تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ”یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے قرآن پڑھا بھی اور (حقیقت میں) نہیں بھی پڑھا؛ یقیناً میں نے خود کو رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پوری رات قیام کرتے ہوئے دیکھا ہے، آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب بھی کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ کی رحمت اور امید کا تذکرہ ہوتا تو آپ ﷺ اپنے رب سے اس کا فضل طلب کرتے اور دعا فرماتے، اور جب کسی وعید اور ڈراوے والی آیت پر پہنچتے تو اپنے پروردگار سے التجا کرتے اور اس کی گرفت سے پناہ مانگتے۔“
امام ابو یعلیٰ نے اپنی سند سے ابن لہیعہ سے روایت کیا ہے جس میں یہ اضافہ ہے کہ ”آپ ﷺ پوری رات کے قیام میں (اسی تدبر کے ساتھ) سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ النساء ہی کی تلاوت فرما پاتے تھے،“ اور بقیہ حدیث کا مفہوم اسی طرح (سابقہ متن کے مطابق) ہے۔