المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
حدیث نمبر: 582
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ - هُوَ التَّيْمِيُّ - قَالَ : رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ الْمَقَامِ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَدْ تَقَدَّمَ بِقِرَاءِ الْقُرْآنِ فِي رَكْعَةٍ ثُمَّ انْصَرَفَ .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
( 27 ) وَحَدِيثُ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ فِي غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ مِنَ الْمَغَازِي .ترجمہ
سیدنا عبد الرحمن بن عثمان التیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نے ایک رات سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو مقامِ ابراہیم کے پاس دیکھا کہ انہوں نے نماز کے لیے قدم آگے بڑھایا اور ایک ہی رکعت میں مکمل قرآنِ مجید کی تلاوت فرمائی، پھر وہ نماز مکمل کر کے واپس تشریف لے گئے۔“
اس کی سند حسن ہے۔
نیز سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی غزوہ حدیبیہ میں رات کی نماز (تہجد) سے متعلق روایت کتاب المغازی میں موجود ہے۔