المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
حدیث نمبر: 580
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ : الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ خَيْثَمَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي يَحْيَى - بَيَّاعِ الْقَتِّ - عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامَ اللَّيْلِ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ حَتَّى تَحَادَرَتْ دُمُوعُهُ ، وَقَالَ : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ .ترجمہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قیامِ لیل (رات کی نماز) کا تذکرہ فرمایا تو آپ ﷺ کی چشمِ مبارک آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں یہاں تک کہ آپ ﷺ کے مبارک آنسو (لڑی بن کر رخسارِ انور پر) ڈھلکنے لگے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ [سورة السجدة: 16] ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابو یحییٰ (بیَّاع القتّ) ہیں اور دیگر محدثین نے اس روایت کو مختلف اسناد سے نقل کیا ہے۔