❮
❯
حدیث نمبر: 579
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَجَعْدَةُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ - لَهُ صُحْبَةٌ - فَقَالَ : ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَاةً لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالُوا : إِنَّهَا قَامَتِ اللَّيْلَ ، وَصَامَتِ النَّهَارَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَكِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ ... الْحَدِيثَ .
579 \ 2 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَعْدَةَ ، قَالَ : ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَهُ .
ترجمہ

مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور جعدہ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بنو عبد المطلب کی ایک آزاد کردہ لونڈی کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ (بڑی عبادت گزار ہے)، پوری رات نماز پڑھتی ہے اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھتی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور (کچھ وقت) نماز بھی پڑھتا ہوں، اور (کچھ دن) روزہ رکھتا ہوں اور (کچھ دن) افطار بھی کرتا ہوں۔“ (یعنی دین میں غلو کے بجائے اعتدال اور میری سنت کی پیروی ہی اصل راستہ ہے)۔
اور امام مسدد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مجاہد کے واسطے سے جعدہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا گیا... پھر انہوں نے سابقہ حدیث کی طرح مکمل واقعہ ذکر کیا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 579
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح لذاته من طريق أحمد بن منيع، ومرسل من طريق مسدد. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 22963، وأخرجه فتح الباري برقم: 1874، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 2186، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 4940، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 1239، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 246/1، 1687/2»