المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَجَعْدَةُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ - لَهُ صُحْبَةٌ - فَقَالَ : ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَاةً لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالُوا : إِنَّهَا قَامَتِ اللَّيْلَ ، وَصَامَتِ النَّهَارَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَكِنِّي أَنَامُ وَأُصَلِّي ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ ... الْحَدِيثَ .
579 \ 2 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَعْدَةَ ، قَالَ : ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ... فَذَكَرَهُ .مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور جعدہ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بنو عبد المطلب کی ایک آزاد کردہ لونڈی کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے عرض کیا کہ وہ (بڑی عبادت گزار ہے)، پوری رات نماز پڑھتی ہے اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھتی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لیکن میں تو سوتا بھی ہوں اور (کچھ وقت) نماز بھی پڑھتا ہوں، اور (کچھ دن) روزہ رکھتا ہوں اور (کچھ دن) افطار بھی کرتا ہوں۔“ (یعنی دین میں غلو کے بجائے اعتدال اور میری سنت کی پیروی ہی اصل راستہ ہے)۔
اور امام مسدد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے مجاہد کے واسطے سے جعدہ رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا گیا... پھر انہوں نے سابقہ حدیث کی طرح مکمل واقعہ ذکر کیا۔