المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ التَّهَجُّدِ باب: نمازِ تہجد کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ ، فَافْتَتَحَ الصَّلَاةَ ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً لَيْسَتْ بِالْخَفِيفَةِ ، وَلَا بِالرَّفِيعَةِ : قِرَاءَةً حَسَنَةً يُرَتِّلُ فِيهَا يُسْمِعُنَا ، قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ سُورَةٍ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ : ذُو الْجَبَرُوتِ ، وَالْمَلَكُوتِ ، وَالْكِبْرِيَاءِ ، وَالْعَظَمَةِ . قَالَ : ثُمَّ إِنَّ قِيَامَهُ نَحْوًا مِنْ سُورَةٍ ، قَالَ : وَسَجَدَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطُّوَلِ ، وَعَلَيْهِ سَوَادٌ مِنَ اللَّيْلِ . قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : وَهُوَ تَطَوُّعُ اللَّيْلِ .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کروں، چنانچہ آپ ﷺ نے نماز کا آغاز فرمایا اور ایسی قرأت کی جو نہ تو نہایت مختصر و تیز تھی اور نہ ہی بہت زیادہ بلند، بلکہ وہ ایک نہایت عمدہ و دلکش قرأت تھی جس میں آپ ﷺ ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرما رہے تھے اور ہمیں سنا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے تقریباً ایک طویل سورت کے دورانیے کے برابر رکوع فرمایا، پھر اپنا سر مبارک اٹھایا اور یہ کلمات کہے: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ : ذُو الْجَبَرُوتِ، وَالْمَلَكُوتِ، وَالْكِبْرِيَاءِ، وَالْعَظَمَةِ» ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی پکار سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی؛ وہ اللہ صاحبِ جبروت (انتہائی غلبہ و قدرت والا)، صاحبِ ملکوت (حقیقی بادشاہت والا)، اور بڑائی و عظمت والا ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ کا (رکوع کے بعد کا) قیام بھی تقریباً ایک سورت کے بقدر طویل تھا، اور آپ ﷺ نے اسی قدر طویل سجدہ کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ طویل سورتوں کی تلاوت سے فارغ ہو گئے جبکہ ابھی رات کی سیاہی کا کچھ حصہ باقی تھا۔
عبدالملک کہتے ہیں کہ یہ رات کی نفلی نماز (تہجد) تھی۔“