❮
❯
حدیث نمبر: 578
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي حُذَيْفَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ لِأُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ ، فَافْتَتَحَ الصَّلَاةَ ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً لَيْسَتْ بِالْخَفِيفَةِ ، وَلَا بِالرَّفِيعَةِ : قِرَاءَةً حَسَنَةً يُرَتِّلُ فِيهَا يُسْمِعُنَا ، قَالَ : ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ سُورَةٍ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ : ذُو الْجَبَرُوتِ ، وَالْمَلَكُوتِ ، وَالْكِبْرِيَاءِ ، وَالْعَظَمَةِ . قَالَ : ثُمَّ إِنَّ قِيَامَهُ نَحْوًا مِنْ سُورَةٍ ، قَالَ : وَسَجَدَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ حَتَّى فَرَغَ مِنَ الطُّوَلِ ، وَعَلَيْهِ سَوَادٌ مِنَ اللَّيْلِ . قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ : وَهُوَ تَطَوُّعُ اللَّيْلِ .
ترجمہ

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ کی اقتدا میں نماز ادا کروں، چنانچہ آپ ﷺ نے نماز کا آغاز فرمایا اور ایسی قرأت کی جو نہ تو نہایت مختصر و تیز تھی اور نہ ہی بہت زیادہ بلند، بلکہ وہ ایک نہایت عمدہ و دلکش قرأت تھی جس میں آپ ﷺ ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرما رہے تھے اور ہمیں سنا رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے تقریباً ایک طویل سورت کے دورانیے کے برابر رکوع فرمایا، پھر اپنا سر مبارک اٹھایا اور یہ کلمات کہے: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ : ذُو الْجَبَرُوتِ، وَالْمَلَكُوتِ، وَالْكِبْرِيَاءِ، وَالْعَظَمَةِ» ”اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی پکار سن لی جس نے اس کی حمد بیان کی؛ وہ اللہ صاحبِ جبروت (انتہائی غلبہ و قدرت والا)، صاحبِ ملکوت (حقیقی بادشاہت والا)، اور بڑائی و عظمت والا ہے“۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ کا (رکوع کے بعد کا) قیام بھی تقریباً ایک سورت کے بقدر طویل تھا، اور آپ ﷺ نے اسی قدر طویل سجدہ کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ طویل سورتوں کی تلاوت سے فارغ ہو گئے جبکہ ابھی رات کی سیاہی کا کچھ حصہ باقی تھا۔
عبدالملک کہتے ہیں کہ یہ رات کی نفلی نماز (تہجد) تھی۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 578
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح لغيره. »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 772، وأخرجه سنن النسائي برقم: 1069، 1133، 1145، 1664، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 874، وأخرجه مسند أحمد برقم: 22902، وأخرجه فتح الباري برقم: 4707، 4710، وأخرجه مسند البزار برقم: 2921، 2934، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 849، وأخرجه صحيح ابن خزيمة برقم: 543، 603، 604، 668، 669، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 5685، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1691»