المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى باب: نمازِ وسطیٰ کا بیان۔
حدیث نمبر: 576
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرَى أَنَّهَا الصُّبْحُ - يَعْنِي الصَّلَاةَ الْوُسْطَى - .ترجمہ
سیدنا سالم بن عبداللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ﴿الصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾ [سورة البقرة: 238] یعنی ”نمازِ وسطیٰ“ (درمیانی نماز) کے متعلق یہ رائے رکھتے تھے کہ ”اس سے مراد صبح یعنی فجر کی نماز ہے“۔
تخریج: یہ اثر صحیح ہے، اسے امام مالک نے ’الموطأ‘ (414) میں موصولاً روایت کیا ہے اور امام بخاری نے اسے اپنی ’صحیح‘ میں تعلیقاً ذکر کیا ہے۔