المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ إِكْمَالِ الْفَرْضِ مِنَ التَّطَوُّعِ وَبَابُ النَّوَافِلِ الْمُطْلَقَةِ باب: نوافل سے فرض کی کمی پوری کرنے اور مطلق نوافل کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ مَيْمُونَةَ : زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : مَنْ آذَى لِي وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَقَّ مُحَارَبَتِي ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ فَرَائِضِي ، وَإِنَّهُ لَيَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ رِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا ، وَلِسَانَهُ الَّذِي يَنْطِقُ بِهِ ، وَقَلْبَهُ الَّذِي يَعْقِلُ بِهِ ، وَإِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ ، وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي عَنْ مَوْتِهِ ، وَذَلِكَ أَنَّهُ يَكْرَهُهُ ، وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ .
هَذَا ضَعِيفٌ .
قُلْتُ : وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ الْبُخَارِيِّ ، وَعَنْ عَائِشَةَ ، وَأَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ”جس نے میرے کسی ولی (برگزیدہ بندے) کو تکلیف دی، وہ میرے ساتھ اعلانِ جنگ کا مستحق ہو گیا، اور میرا بندہ جن اعمال کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سب سے زیادہ محبوب مجھے وہ فرائض ہیں جو میں نے اس پر لازم کیے ہیں، اور میرا بندہ مسلسل نفلی عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پس جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا وہ پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کی وہ زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ گفتگو کرتا ہے، اور اس کا وہ دل بن جاتا ہوں جس سے وہ فہم و ادراک حاصل کرتا ہے؛ اگر وہ مجھ سے کچھ مانگے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں، اور اگر وہ مجھے پکارے تو میں اس کی پکار ضرور قبول کرتا ہوں؛ اور مجھے کسی ایسے کام کے کرنے میں کبھی تذبذب نہیں ہوا جیسا تذبذب مجھے اپنے بندے کی موت کے وقت ہوتا ہے، کیونکہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اسے اذیت میں مبتلا کرنا ناپسند کرتا ہوں۔“
یہ روایت ضعیف ہے۔ میں (مؤلف) کہتا ہوں: اس باب میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے امام بخاری کے ہاں، اور سیدہ عائشہ و سیدنا انس رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث مروی ہیں۔