المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الْوُضُوءِ باب: وضو کی کیفیت اور اس کے طریقے کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، ثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَرِنِي وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ : ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : خَارِجَ الْأُذُنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ وَبَاطِنَهُمَا مِنَ الْوَجْهِ ، ثُمَّ حَسَا حَسْوًا بَعْدَ الْوُضُوءِ ، ثُمَّ قَالَ : " كَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .ابو مطر سے روایت ہے کہ ہم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ان سے التماس کی: ”مجھے اللہ کے رسول ﷺ کے وضو کا طریقہ دکھائیں!“، تب انہوں نے (اپنے خادم) قنبر کو پکارا اور فرمایا: ”میرے پاس پانی کا ایک کوزہ لے کر آؤ“، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ مبارک تین تین بار دھویا اور اپنی انگلیاں منہ میں داخل کیں، پھر راوی نے مکمل حدیث بیان کی جس میں یہ صراحت بھی تھی کہ: ”کانوں کا بیرونی حصہ سر کا جزو ہے اور ان کا اندرونی حصہ چہرے کے حکم میں ہے“، پھر انہوں نے وضو مکمل کرنے کے بعد پانی کا ایک گھونٹ بھرا اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کا وضو مبارک بالکل اسی طرح ہوا کرتا تھا۔“