المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ الْوُضُوءِ باب: وضو کی کیفیت اور اس کے طریقے کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ مَنْ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ : إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَا بِوَضُوءٍ ، وَعِنْدَهُ عَلِيٌّ وَطَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ كَمَا تَوَضَّأْتُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ .
55 \ 2 - وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا لَيْثٌ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ قَالَ : إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَعَا بِوَضُوءٍ ، وَعِنْدَهُ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدٌ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ . ثُمَّ تَوَضَّأَ وَهُمْ يَنْظُرُونَ ، فَذَكَرَ فِيهِ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ لِلَّذِينَ حَضَرُوا : " أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ كَمَا تَوَضَّأْتُ الْآنَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ " وَذَلِكَ لِشَيْءٍ بَلَغَهُ عَنْ وُضُوءِ رِجَالٍ .
55 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ - بِهِ .سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے وضو کے لیے پانی طلب کیا، اس وقت ان کے پاس سیدنا علی اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہما موجود تھے، پس آپ نے اعضا کو تین تین بار دھو کر وضو کیا، پھر فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ بالکل اسی طرح وضو فرمایا کرتے تھے جیسا کہ میں نے ابھی کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ ایک دوسری روایت کے مطابق اس مجلس میں سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا سعد اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، آپ نے ان کی موجودگی میں وضو کیا جبکہ وہ دیکھ رہے تھے، اس میں بھی تین تین مرتبہ اعضا دھونے کا بیان ہے، پھر آپ نے حاضرین سے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم علم رکھتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ اسی طرح وضو فرمایا کرتے تھے جیسا میں نے ابھی کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ عمل اس لیے کیا تھا کیونکہ انہیں بعض لوگوں کے طریقہ وضو کے حوالے سے کوئی اطلاع پہنچی تھی۔