المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْمَعْذُورِ باب: معذور کی نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 555
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَسْجُدَ فَلْيَسْجُدْ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلَا يَرْفَعَنَّ إِلَى وَجْهِهِ شَيْئًا ، وَلْيَكُنْ سُجُودُهُ رُكُوعًا ، وَلْيَكُنْ رُكُوعُهُ أَنْ يُومِئَ بِرَأْسِهِ .
فِي إِسْنَادِهِ ضَعِيفَانِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص (زمین پر) سجدہ کرنے کی استطاعت رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ سجدہ کرے، اور جو سجدہ کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ (سجدہ کرنے کے لیے) اپنے چہرے کی طرف کوئی چیز اٹھا کر نہ لائے، بلکہ اسے چاہیے کہ وہ (اشارے سے نماز پڑھتے ہوئے) اپنے سجدے کو (رکوع کی نسبت زیادہ جھک کر) رکوع کی مانند کرے اور اپنے رکوع کو محض سر کے اشارے سے ادا کرے۔“
اس کی سند میں دو راوی ضعیف ہیں۔