المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ سُجُودِ التِّلَاوَةِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهِ وَجَوَازِ الرُّكُوعِ عِنْدَ سُجُودِ التِّلَاوَةِ باب: نماز اور نماز کے باہر سجدۂ تلاوت اور اس کے موقع پر رکوع کے جواز کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثَنَا الْيَمَانُ بْنُ نَصْرٍ : صَاحِبُ الدَّقِيقِ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي تَحْتَ شَجَرَةٍ ، وَكَأَنَّ الشَّجَرَةَ تَقْرَأُ ( ص ) فَلَمَّا أَتَتْ عَلَى السَّجْدَةِ : سَجَدَتْ فَقَالَتْ فِي سُجُودِهَا : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي بِهَا ذَنْبًا ، اللَّهُمَّ حُطَّ عَنِّي بِهَا وِزْرًا ، وَأَحْدِثْ لِي بِهَا شُكْرًا ، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ سَجْدَتَهُ . فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : سَجَدْتَ أَنْتَ يَا أَبَا سَعِيدٍ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَإِنَّكَ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ مِنَ الشَّجَرَةِ ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ ( ص ) ، ثُمَّ أَتَى عَلَى السَّجْدَةِ ، وَقَالَ فِي سُجُودِهِ مَا قَالَتِ الشَّجَرَةُ فِي سُجُودِهَا .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک درخت کے نیچے ہوں اور وہ درخت سورہ ﴿ص﴾ [سورة ص: 1] کی تلاوت کر رہا ہے، پھر جب وہ آیتِ سجدہ پر پہنچا تو اس نے سجدہ کیا اور اپنے سجدے میں یہ دعا مانگی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي بِهَا ذَنْبًا ، اللَّهُمَّ حُطَّ عَنِّي بِهَا وِزْرًا ، وَأَحْدِثْ لِي بِهَا شُكْرًا ، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ سَجْدَتَهُ» ”اے اللہ! اس سجدے کے وسیلے سے میرا گناہ معاف فرما دے، اے اللہ! اس کے ذریعے میرا بوجھ مجھ سے اتار دے، اس کی برکت سے میرے لیے شکر گزاری کا جذبہ پیدا فرما اور اسے میری طرف سے ویسے ہی قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داؤد علیہ السلام کا سجدہ قبول فرمایا تھا“۔ میں نے صبح رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے ابوسعید! کیا تم نے بھی سجدہ کیا تھا؟“ میں نے عرض کیا: جی نہیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم تو اس درخت کے مقابلے میں سجدہ کرنے کے زیادہ حقدار تھے“۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے خود سورہ ﴿ص﴾ کی تلاوت فرمائی اور جب آیتِ سجدہ پر پہنچے تو سجدہ کیا اور اپنے سجدے میں وہی کلمات کہے جو اس درخت نے اپنے سجدے میں کہے تھے۔
اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (554) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں کلام ہے، البتہ اس دعا کی اصل سنن ترمذی (3424) اور سنن ابن ماجہ (1053) میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی معتبر روایت سے ثابت ہے جو اس کے مفہوم کو تقویت دیتی ہے۔