❮
❯
حدیث نمبر: 556
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرِيضًا ، وَأَنَا مَعَهُ ، فَرَآهُ يُصَلِّي ، وَيَسْجُدُ عَلَى وِسَادَةٍ ، فَنَهَاهُ ، وَقَالَ : إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ فَاسْجُدْ ، وَإِلَّا فَأَوْمِئْ إِيمَاءً ، وَاجْعَلِ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ .
حَفْصٌ ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مریض کی عیادت فرمائی اور میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھا، آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ شخص نماز پڑھ رہا ہے اور (سجدہ کرنے کے لیے) ایک تکیے پر سجدہ کر رہا ہے، تو آپ ﷺ نے اسے اس عمل سے منع فرما دیا اور ارشاد فرمایا: ”اگر تم زمین پر سجدہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہو تو (باقاعدہ) سجدہ کرو، ورنہ پھر محض اشارہ کرو اور اپنے سجدے کے اشارے کو رکوع کے مقابلے میں زیادہ پست (جھکا ہوا) رکھو۔“
حفص نامی راوی ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 556
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: حَفْصٌ ضَعِيفٌ . »
«أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 13082، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 2895، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1348/1»