المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ سُجُودِ التِّلَاوَةِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهِ وَجَوَازِ الرُّكُوعِ عِنْدَ سُجُودِ التِّلَاوَةِ باب: نماز اور نماز کے باہر سجدۂ تلاوت اور اس کے موقع پر رکوع کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 553
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ : إِنَّ خُزَيْمَةَ رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنَّهُ سَجَدَ عَلَى جَبْهَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاضْطَجَعَ لَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : صَدِّقْ رُؤْيَاكَ ، فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ .ترجمہ
ابن خزیمہ کے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے حالتِ نیند میں ایک خواب دیکھا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی پیشانیِ اقدس پر سجدہ کیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ ان کے خواب کی لاج رکھنے کے لیے (پہلو کے بل) لیٹ گئے اور ارشاد فرمایا: ”اپنے خواب کی تصدیق کرو (یعنی اسے عملی طور پر پورا کر لو)“، چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کی پیشانیِ انور پر سجدہ کیا۔
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے امام احمد بن حنبل، امام ابن حبان اور امام حاکم نے بھی اپنی کتب میں روایت کیا ہے، جس کی بنیاد پر اسے صحیح قرار دیا گیا ہے۔